ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور میں راہول گاندھی نے کیا زبردست چیلنج؛ دم ہے تو بی جے پی اور آر ایس ایس دستور کو چھو کر دکھائے؛ ناگپور کا نظریہ ملک میں نہیں چلے گا

بنگلور میں راہول گاندھی نے کیا زبردست چیلنج؛ دم ہے تو بی جے پی اور آر ایس ایس دستور کو چھو کر دکھائے؛ ناگپور کا نظریہ ملک میں نہیں چلے گا

Thu, 10 May 2018 01:54:51    S.O. News Service

بنگلورو۔9؍مئی (ایس او  نیوز) 12مئی کو ہونے والے کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کی اتنخابی مہم چلانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے لئے اب صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے، جمعرات کے بعد تشہیر بازی اور جلوس جلسے سب بند ہوجائیں گے، ایسے میں بدھ کو  بنگلور میں کانگریس کے لئے انتخابی مہم چلانے کے لئے پہنچے اے آئی سی سی صدر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر پے درپے کئی وار کر ڈالے اور مرکزی وزیر  کے  ملک کے دستور  کو تبدیل کرنے والے بیان کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے راہول گاندھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس  کو چیلنج کیا کہ دم ہے تو وہ  ملک کے دستور کو چھو کر دکھائے، پھر دیکھے کانگریس   کیا حشر کرتی ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ یہ لوگ دستور بدل کر ناگپور کا آر یس یس والا نظریہ تھوپنے کی کوشش میں ہے مگر میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ دستور بدل کر دیکھیں۔ اگر ان میں طاقت ہیں تو   وہ دستور چھو کر دیکھیں، پھر ہم بتائیں گے کہ ہم کیا حشر کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے مودی پر ایک کے بعد ایک وار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے آج تک کسی جج نے زبان نہیں کھولی تھی۔ مگر اب مودی کے دور میں سپریم کورٹ کے ایک جج چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں ملا ہے یہ ملک پر بدنما داغ ہے۔

راہول گاندھی نے جسٹس لویا قتل معاملے پر بھی سوالات اُٹھائے  اور کہا کہ  مودی  اس طرح کی کرتوتوں پر  چپی سادھ رکھی ہے۔راہول نے  مودی کو رافیل معاملے پر بھی کھینچا اور کہا کہ  برسوں تک ملک کے لئے ہوائی جہاز تیار کرنے والی بنگلور کی  ہیچ یل کمپنی سے مودی نے رافیل کا کنٹراکٹ چھین کر اپنے ساتھیوں کو دیا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ مودی نے جس کمپنی کو ہوائی جہاز کا ٹھیکہ دیا ہے اُس کمپنی سے  اب تک ایک بھی ہوائی جہازتیار نہیں ہواہے۔

راہول گاندھی نے مودی سے سوال کیا  کہ کیا آپ کےاقتدار میں آنے سے پہلے ملک میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ کیا اب سے پہلے بنگلور آئی ٹی ہب نہیں بنا تھا۔ کیا اسے سلکان وادی قرار نہیں دیا گیا تھا۔ شیواجی نگر کے رسل مارکیٹ میں کانگریس امیدوار آر روشن بیگ کے ہمراہ روڈ شو کے دوران انہوں نے بتایا کہ مودی کا جادو بنگلور میں نہیں چلے گا۔ کیونکہ اس شہر کی تعمیر یہاں کے عوام نے کی ہے۔ اور مودی کہتے ہیں کہ ستر سال سے یہاں کوئی کام نہیں ہوا ہے جو یہاں کے بزرگوں کی توہین ہے۔ اس بیان کے ذریعہ مودی بنگلور کے معمار کیمپے گوڈا کی توہین کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوام نے ریاست کی تعمیر کی اور کانگریس پارٹی نے صرف ان کا تعاون کیا تھا۔

راہل گاندھی نے بتایا کہ مودی جہاں بھی جاتے ہیں بسونا کی مورتی آگے سرجھکاتے ہیں۔ مگر جب زبان کھولتے ہیں تو صرف ذاتی تنقید کرتے ہیں۔ سدرامیا، ملکارجن کھرگے اور ان پر ذاتی حملے کرنے کے ذریعہ ذہنی سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کے ذریعہ وہ نہ صرف اپنے بلکہ وزیر اعظم کے عہدے کے وقار کو نیچا کررہے ہیں۔ جبکہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کا احترام کرتے ہیں چاہے مودی ان کے خلاف کچھ بھی بیان دیں۔ وہ اس عہدے کا احترام کرتے رہیں گے۔ یہی بی جے پی اور کانگریس کے درمیان موجود تہذیب ہے۔ وہ عوام کو نفرت کی بنیاد پر بانٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو کانگریس پارٹی محبت اور بھائی چارے کی بنیاد پر عوام کو جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ جب ذات پات کی بنیاد پر دلتوں پر حملے کئے گئے اور اقلیتوں کے قتل ہوئے تب بھی مودی چپ رہے۔ اور اب یہ کہہ رہے ہیں کہ دلتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ مودی بنگلور سے صرف فرضی محبت کرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اس شہر کی ترقی کیلئے صرف 550کروڑ روپئے فراہم کئے ہیں جبکہ سابقہ یو پی اے حکومت کے دور میں 10 ہزار کروڑ روپیوں کی امداد فراہم ہوئی تھی۔ بدعنوانی کے خلاف بات کرنے والے مودی رشوت خوری کے الزام میں جیل جاکر آنے والے یڈیورپا کو بغل میں بٹھاتے ہیں۔کروڑوں روپیوں کا گھپلہ کرنے والے ریڈی برادران کے 8حامیوں کو ٹکٹ دینے والے مودی کو اس بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ خود امیت شاہ کے فرزند ملک کے سب سے بڑے بدعنوان ہیں۔ جنہوں نے صرف 50 ہزار روپیوں کو چند ہی دنوں میں کروڑوں روپیوں میں تبدیل کردیا۔ اس معاملے پر بھی آج تک مودی نے زبان نہیں کھولی۔ راہل گاندھی نے بتایا کہ کانگریس حکومت کے دور میں منریگا منصوبے کے تحت جتنی رقم خرچ کی تھی اتنی ہی رقم کا غبن صرف ایک ریڈی نے کیا ہے۔

راہول نے الزام لگایا کہ مودی نے نوٹ بندی کرنے کے بعد غریبوں کے پیسے چھین کر اپنے ساتھیوں نیرومودی، چوسکی اور دیگر کے حوالے کرکے راہ فرار اختیار کرنے میں ان کی مدد کی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جناب آر روشن بیگ کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کا ماحول برقرار رہے اور نفرت باٹنے والی طاقتوں کو کرارا جواب دیا جاسکے۔ اس موقع پر اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج کے سی وینوگوپال ، اشوک گہلوٹ، بی کے ہری پرساد، اے آئی سی سی ترجمان م افضل، رکن کونسل رضوان ارشد، ضلع کانگریس صدر جی شیکھر، اے آئی سی سی سکریٹری انچارج مدھویاگشی گاؤڈ، جواں سال قائد آر رومان بیگ، کارپوریٹرس شکیل احمد، ایم کے گنا شیکھر، وسنت کمار، پارٹی قائدین اشتیاق احمد، سید شجاع الدین، مرگا، گوپی، سرونا کے علاوہ دیگر موجود تھے۔


Share: